Best short story in urdu

Aj ki iss best short story in urdu mai apko ak best moral lesson mely ga. Jis mai iss bat ki wazahat ki jy gi k allah k naq bandy kis tara sy haram aur halal ko apni zingadi mai ahmeyat dety thy. Iss kahani ko prhny k bad apko ak aham information mely gi.

حرام اور حلال کی تمیز

حکایت ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کے گھر میں آٹا گوندھتے وقت خمیرے آٹے کی ضرورت در پیش ہوئی ۔ تو ان کے بیٹے حضرت عبداللہ رحمہ للہ کے گھر سے خمیرہ آنا لایا گیا۔ جب روٹی پک گئی تو امام احمد رحمہ اللہ کو بذریعہ کشف معلوم ہوا کہ روٹی مشتبہ ہے۔ چنانچہ آپ نے گھر والوں سے دریافت فرمایا تو گھر والوں نے سارا قصہ سنا دیا۔ امام احمد رحمہ للہ نے روٹی کھانے سے انکار کر دیا اور نہ کھانے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ میرا بیٹا قاضی ہے ۔ جسے بیت المال سے وظیفہ ملتا ہے۔ایسےمال کا کھانا اور استعمال کرنا اگر چہ عام لوگوں کے لئے جائز ہے ۔ لیکن امام احمد رحمہ اللہ جیسے عظیم المرتبہ محدث ایسے مال سے پرہیز کرتے تھے۔

تو گھر والوں نے پوچھا کہ یہ روٹی مساکین کو دیدیں ؟ فرمایا ہاں دے دو مگر دیتے وقت یہ عیب ضرور بیان کرنا ۔ چنانچہ گھر والوں نے جب وہ روٹی مساکین کو دینا چاہی تو انہوں نے بھی روٹی کھانے سے انکار کر دیا ۔ گھر والے پریشان ہوئے ، انہوں نے امام احمد رحمہ اللہ سے مشورہ کئے بغیر وہ روٹی دریا میں بہادی ۔ امام احمد رحمہ اللہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو امام احمد رحمہ اللہ نے زندگی بھر مچھلی کھانا چھوڑ دی ( کہ مچھلیوں نے وہ مشتبہ روٹی کھائی ہوگی ) ( مرقات ، شرح مشکوۃ )

حضرت عمر کاتقوی

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک بار کسی نے دودھ پیش کیا آپ نے اسے پی لیا۔ پھر اس آدمی سے پوچھا کہ تم نے یہ دودھ کہاں سے حاصل کیا ہے؟ اس نے کہا میں ایک چشمے پر گیا ۔ وہاں صدقہ (زکوۃ ) کی اونٹنیوں کو پانی پلایا جارہا تھا ۔ پس شتر بانوں نے ان کادودھ دوہا اور اس میں سے انہوں نے کچھ دودھ مجھے بھی دیا میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فورا انگلی اپنے حلق میں داخل کی اور اس دودھ کو قے کر دیا۔ کیونکہ بیت المال کی اونٹنیوں کا دودھ اس طرح پیٹ بھر کر پینا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے لئے حرام سمجھتے تھے۔ ہمارے اسلاف کھانے پینے کے معاملے میں کتنےمحتاط تھےاونی سی مشتبہ چیز سے بھی کتنا پر ہیز کیا کرتےتھے۔

جس طرح ہم اپنے لباس اور ظاہری جسم کی صفائی کا خیال رکھتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں اپنے دین و ایمان کی بھی فکر ہونی چاہیے ۔لباس پر اگر چھوٹے چھوٹے دھبوں اور داغوں کی تعداد بڑھ جائے تو لباس کتنا برا اور بد نما معلوم ہوتا ہے۔ کوئی معز زسفید پوش انسان ایسا لباس پہنا پسند نہیں کرتا۔

اس طرح ایمان کا لباس بھی چھوٹے چھوٹے گناہوں سے داغدار اور بدنما ہو جاتا ہے۔ بد نما لباس پہن کر بادشاہوں کے دربار میں بڑے لوگوں سے ملاقات کیلئے جانا کوئی عقلمند آدمی گوارا نہیں کرتا۔مگر نہایت افسوس کی بات ہے کہ مسلمان گناہوں سے داغدار ایمانی اغدار ایمانی لباس پہن کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جانے سے شرماتے ۔

Button Read more related Story here:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *