Islamic stories from quran in urdu – Islamic story in urdu text

Islamic stories from quran in urdu read here. In today’s post, a true incident from the Quran will be discussed that will provide you with the best information.Islamic stories from the Quran in urdu are available on our website in the best possible way. Read them easily online and share them with your friends. Visit our website and explore the rich content.https://urdughar.pk/qurani-waqait/

دوڑنے والا پتھر

یہ ایک ہاتھ لمبا ایک ہاتھ چوڑا چوکور پتھر تھا۔ جو ہمیشہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جھولے میں رہتا تھا۔ اس مبارک پتھر کے ذریعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دو معجزات کا ظہور ہوا۔  جن کاتذکرہ قرآن مجید میں بھی ہوا ہے۔ اس پتھر کا پہلا عجیب کارنامہ جو در حقیقت   حضرت موسیٰ کا معجزہ تھاپتھر کی دانشمندانہ لمبی دوڑ ہے ۔بنی اسرائیل کا دستور تھا کہ وہ بالکل ننگے بدن ہو کرمجمع عام میں غسل کیا کرتے تھے ۔

مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام اسی قوم کے ایک فرد تھے ۔ خدا وند قدوس نے اُن کو نبوت ورسالت کی عظمتوں سے سرفراز فرمایا تھا۔ اس لئے آپ کی عصمت نبوت بھلا اس حیا سوز بے غیرتی کو کب گوارا کر سکتی تھی۔ آپ بنی اسرائیل کی اس بے حیائی سے سخت نالاں اور انتہائی بیزار تھے ۔ اس لئے آپ ہمیشہ یا تو تنہائی میں یا تہبند پہن کر غسل فرمایا کرتے تھے۔

حضرت موسیٰ پر بہتان

بنی اسرائیل نے جب یہ دیکھا کہ آپ کبھی بھی ننگے ہو کر غسل نہیں فرماتے۔تو ظالموں نے آپ پر بہتان لگا دیا کہ آپ کے بدن کے اندرونی حصہ میں یا تو برص کا سفید داغ یا کوئی ایسا عیب ضرور ہے ۔جس کو چھپانے کے لئے یہ کبھی برہنہ نہیں ہوتے اور ظالموں نے اس تہمت کا اس قدر اعلان اور چرچا کیا ۔ ہر کو چہ بازار میں اس کا پرو پیگنڈہ پھیل گیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قلب نازک پر بڑا صدمہ و رنج گزرا اور آپ بڑی اذیت میں پڑ گئے ۔ تو خداوند قدوس اپنے مقدس کلیم کے رنج وغم کو بھلا کب گوارا فر ماتا۔ اور اپنے ایک رسول پر ایک عیب کی تہمت بھلا خالق عالم کو کب اور کیونکر اور کس طرح پسند ہوسکتی تھی۔ ارحم الراحمین نے آپ کی برات اور بے عیبی ظاہر کر دینے کا ایک ایسا ذریعہ پیدا فرما دیا کہ دم زدن میں بنی اسرائیل کے پروپیگنڈوں اور اُن کے شکوک و شبہات کے بادل چھٹ گئے ۔اور آپکی برات اور بے عیبی کا سورج آفتاب عالم تاب سے زیادہ روشن و آشکارا ہو گیا۔

چشمہ پر غسل

ایک دن ایک چشمہ پر غسل کے لئے تشریف لے گئے ۔اور یہ دیکھ کر کہ یہاں دور دورتک کسی انسان کا نام و نشان نہیں ہے ۔ آپ اپنے تمام کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ کر اور بالکل برہنہ بدن ہو کر غسل فرمانے لگے ۔ غسل کے بعد جب آپ لباس پہننے کے لئے پتھر کے پاس پہنچ۔ تو کیا دیکھا کہ وہ پھر آپ کے  کپڑوں  کو لئے ہوئے سرپٹ بھاگا چلا جا رہا ہے۔  یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اس پتھر کے پیچھے پیچھے دوڑنے لگے ۔کہ اے پتھر   میرا کپڑا ۔ اے پتھر میرا کپڑا ۔ مگر یہ پتھر برابر بھاگتا رہا۔ یہاں تک کہ شہر کی بڑی بڑی سڑکوں سے گزرتا ہو گلی کوچوں میں پہنچ گیا۔ اور آپ بھی برہنہ بدن ہونے کی حالت میں برابر تھر کو دوڑاتے چلے گئے۔

مقدس بدن

اس طرح بنی اسرائیل کے ہر چھوٹے بڑے نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ سر سے پاؤں تک آپ کے مقدس بدن میں کہیں بھی کوئی عیب نہیں ہے۔ بلکہ آپ کے جسم کا ہر حصہ حسن و جمال میں اس قدر نقطہ کمال کو پہنچاہے کہ عام انسانوں میں اس کی مثال محال ہے۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے ہر ہر فرد کی زبان پر تھا کہ خدا کی قسم موسیٰ بالکل ہی بے عیب ہیں۔جب یہ پتھر پوری طرح حضرت موسیٰ علیہالسلام کی برأت کا اعلان کر چکا تو خود بخود ٹھہرگیا ۔  آپ نے جلدی سے اپنا لباس پہن لیا اور اس پتھر کو اٹھا کر اپنے جھولے میں رکھ لیا۔

اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح بیان فرمایا کہ ترجمه : اے ایمان والو ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسی کو ستایا تو اللہ نے اسے بری فرما دیا اس بات سے جو اُنہوں نے کہی۔ اور موسی اللہ کے یہاں آبرو والا ہے۔

Read Islamic stories from quran in urdu:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *