Qurani waqait – Islamic Waqiat Urdu text copy paste

The article is written about Qurani waqait based on various incidents narrated in the Holy Qur’an.”Stay on our website to read Qurani waqait and share them with your friends for free online.They can understand Qurani waqait in a better way and lead their lives according to the teachings of the Quran. Follow the ways mentioned in the Quran to navigate through life. Share this with your friends.”https://urdughar.pk/qurani-waqait/

بادشاہ کا انتخاب

 حضرت شمویل علیہ اسلام جب نبوت سے سرفراز کئے گئے تو ان کے زمانے میں کوئی بادشاہ نہیں تھا۔ بنی اسرائیل نے آپ سے درخواست کی کہ آپ کسی کو ہمارا بادشاہ بنادیجئے۔ تو آپ نے حکم خداکے مطابق طالوت کو بادشاہ بنادیا۔ جو بنی اسرائیل میں سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے بڑا عالم تھا۔ لیکن بہت ہی غریب و مفلس تھا۔ چمڑا پکا کر یا بکریوں کی چرواہی کر کے زندگی بسر کرتا تھا۔ اس پر بنی اسرائیل کو اعتراض ہوا کہ طالوت شاہی خاندان سے نہیں ہے ۔لہذا یہ کیونکر اور کیسے ہمارا بادشاہ ہو سکتا ہے ۔اس سے زیادہ تو بادشاہت کے حق دار ہم لوگ ہیں۔ کیونکہ ہم لوگ شاہی خاندان سے ہیں۔ پھر طالوت کے پاس کچھ زیادہ مال بھی نہیں ہے۔ ایک غریب و مفلس انسان بھلا تخت شاہی کے لائق کیونکر ہو سکتا ہے۔

بادشاہی کی نشانی

ترجمه کنز الایمان: فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی ۔اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے۔ اور اللہ وسعت والا علم والا ہے

بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت جس میں تمہارے رب کاطرف سے دلوں کا چین ہے۔ (چنانچہ تھوڑی ہی دیر کے بعد چار فرشتے صندوق لے کر آگئے۔ اور صندوق کو حضرت شمویل علیہ السلام کے پاس رکھ دیا۔یہ دیکھ کر تمام بنی اسرائیل نے طالوت کی بادشاہ کو تسلیم کرلیا اورآپ نے بادشاہ بن کر نہ صرف انتظام ملکی سنبھالا۔ بلکہ بنی اسرائیل کی فوج بھرتی کر کے قوم عمالقہ کے کفار سے جہاد بھی فرمایا۔

https://urdughar.pk/best-islamic-story-in-urdu/

ترجمه کنزالایمان

ترجمه کنزالایمان: اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا کہ بے شک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔ بولے اسے ہم پر بادشاہی کیوں کر ہوگی؟ اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے متحق ہیں ۔اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی۔ فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی۔ اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے۔ کہ آئے تمہارے پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے۔ اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں معز ز موسی اور معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے ۔ بیشک اس میں بڑی نشانی ہےتمہارے لئے ، اگر ایمان رکھتے ہو۔ 

حضرت داؤد بادشاہ

جب طالوت بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے تو آپ نے بنی اسرائیل کو جہاد کے لئے تیار کیا ۔ ایک کافر بادشاہ ” جالوت سے جنگ کرنے کے لئے اپنی فوج کو لے کر میدان جنگ میں نکلے۔جالوت بہت ہی قد آور اور نہایت ہی طاقتور بادشاہ تھا۔وہ اپنے سر پر لوہے کی جو ٹوپی پہنتا تھا ۔اس کا وزن تین سور طل تھا۔جب دونوں فوجیں میدانِ جنگ میں لڑائی کے لئے صفہ آرائی کر چکیں۔ تو حضرت طالوت نے اپنے لشکر میں یہ اعلان فرما دیا ۔ جو شخص جالوت کو قتل کرے گا، میں اپنی شہزادی کا نکاح اس کے ساتھ کردوں گا۔ اور اپنی آدھی سلطنت بھی اس کو عطا کر دوں گا۔

یہ فرمان شاہی سن کر حضرت داؤد علیہ السلام آگے بڑھے جو ابھی بہت ہی کمسن تھے۔اور بیماری سے چہرہ زرد ہورہا تھا۔ غربت و مفلسی کا یہ عالم تھا کہ بکریاں چرا کر اس کی اجرت سے گزر بسر کرتے تھے۔ روایت ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام گھر سے جہاد کے لئے روانہ ہوئے تھے ۔تو راستہ میں ایک پتھر یہ بولا کہ اے حضرت داؤد ! مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھر ہوں۔ پھر دوسرے پتھر نے آپ کو پکارا کہ اے حضرت داؤد مجھے اٹھا لیجئے ۔کیونکہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کا پتھر ہوں۔پھر ایک تیسرے پتھر نے آپ کو پکار کر عرض کیا کہ اے حضرت داؤد علیہ السلام مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں جالوت کا قاتل ہوں۔ آپ علیہ السلام نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر اپنے جھولے میں رکھ لیا۔

Read Qurani waqait:

جالوت کاقتل

جب جنگ شروع ہوئی تو حضرت داؤد علیہ السلام اپنی گوپھن لے کر صفوں سے آگے بڑھے ۔ جب جالوت پر آپ کی نظر پڑی تو آپ نے ان تینوں پتھروں کو اپنی گوپھن میں رکھ کر اور بسم اللہ پڑھ کر گو پھن سے تینوں پتھروں کو جالوت کے اوپر پھینکا ۔اور یہ تینوں پتھر جا کر جالوت کی ناک اور کھوپڑی پر لگے ۔اس کے بھیجے کو پاش پاش کر کے سر کے پیچھے سے نکل کر تمیں جالوتیوں کو لگے اور سب کے سب مقتول ہو کر گر پڑے۔پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کی لاش کو گھسیٹتے کر اپنے بادشاہ حضرت طالوت کے قدموں میں ڈال دیا۔اس پر حضرت طالوت اور بنی اسرائیل بے حد خوش ہوئے ۔جالوت کے قتل ہو جانے سے اس کا لشکر بھاگ نکلا اور حضرت طالوت کو فتح مبین ہو گئی۔ 

سلطنت کے بادشاہ

حضرت طالوت نے حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا ۔ اور اپنی آدھی سلطنت کا ان کو سلطان بنا دیا۔پھر پورے چالیس برس کے بعد جب حضرت طالوت بادشاہ کا انتقال ہو گیا۔تو حضرت داؤد علیہ السلام پوری سلطنت کے بادشاہ بن گئے ۔جب حضرت شمویل کی وفات ہوگئی۔تو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو سلطنت کے ساتھ نبوت سے بھی سرفراز فرما دیا۔

آپ سے پہلے سلطنت اور نبوت دونوں اعزاز ایک ساتھ کسی کو بھی نہیں ملا تھا۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ ان دونوں عہدوں پر فائز ہو کر ستر برس تک سلطنت اور نبوت دونوں منصبوں کے فرائض پورے کرتے رہے ۔پھر آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور نبوت دونوں مرتبوں سے سرفراز فرمایا۔

Read more Qurani waqait:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *